بے نام لوگ اور فیس بک
نام کا اندراج کیجیئے
والد کا نام بلکل نہیں چاہیئے
فون نمبر دیجیئے
اپنے بارے جھوٹا سچا لکھیئے اور بنا دیجئیے فیسبک کی آئی ڈی
یہ لیں آپ دوسری دنیا میں موجود ہیں
آئی ڈیز کی بھرمار ہے
یہاں پاپا کی پریاں بھی ہیں اور ماؤں کے لاڈلے بھی
یہاں ادھورا عشق بھی آپ سے محو گفتگو ہو گا
اور سنسناتی ہوا بھی
یہاں عبدل قدوس نام کی عورت بھی ملے گی اور رضیہ نام کا مرد بھی
یہاں پارکنگ میں کسی گاڑی کے ساتھ تصویر کھینچ کے "hanging out with friends" کہنے والے نمونے بھی ملیں گے
اور دو سو تصویریں کھینچ کے کسی ایک تصویر کو ایڈٹ کر کے "just a random selfie" کہنے والی نمونیاں بھی
یہاں آنکھوں پر موٹے چشمے لگا کے سب کو محلے کے دادا کی طرح دیکھنے والے ناقد بھی ملیں گے
اور دین اسلام کی نماز کے اوقات میں بھی ترویج کرنے والی خواتین بھی
یہاں شاعر تو آپ کو جابجا ملیں گے اور رائٹر تو ہر جا دکھیں گے
یہاں شیئر کے ذریعے جنت تک جانے کا آسان راستہ بھی نظر آئے گا اور پوسٹ لائیک نہ کرنے پر جہنم کی وعید بھی سنائی جائے گی
یہاں گھر میں اپنے بچوں کو ڈنڈے سے مار کے سلانے کے بعد بچوں کی تربیت پر لیکچر دینے والی خواتین بھی دکھیں گی
اور بیوی کو دو تھپڑ لگا کے خوانگی مسائل پر بات کرنے والے مرد بھی
یہاں لڑکی کی آئی ڈی دیکھ کر سب کو شادی کی آفر کرنے والے کاکے بھی دکھیں گے اور کمال بے نیازی سے ان کے جال میں پھنسنے والی کاکیاں بھی ملیں گی
غرض اس سمندر بے کراں میں طرح طرح کے لوگ تیر رہے ہیں
لیکن ان سب سے ہی کچھ نہ کچھ سیکھنے کو ملتا ہے
یہاں سے لوگوں کو بولنا آیا ہے
اپنے احساسات کی ترجمانی کرنا آیا ہے
خود اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے
پریشانیوں سے وقتی ہی سہی نجات ملی ہے
دوست ملے ہیں، دشمن ملے ہیں
محبت ملی ہو کچھ کو تو بیویاں بھی ملی ہیں
گروپ کے محلے میں سوشل اشوز پر بات کرنے کا حوصلہ بھی ملا ہے
نا کہنے کی ہمت بھی ملی ہے
بلاک کر کے خوشی بھی ملی ہے اور بلاک ہو کے دکھ بھی ملا ہے
غالب ،میر، فیض، فراز کو جاننے کا موقع ملا ہے تو اشفاق، واصف، قدسیہ ، شہاب کو سمجھنے کا طریقہ بھی ملا ہے جھوٹی سچی سیاست کی شہ سرخیاں بھی دکھی ہیں اور سیاست کے نام پر گالی گلوچ بھی ملی ہے
یہ بھی پڑھیں۔۔