ایک خاموش قاتل || A silent killer

GR SONS

 

ایک خاموش قاتل




تصور کریں، آپ ایک ایسی مخلوق کے بارے میں سوچ رہے ہیں جو خاموشی سے آپ کی قیمتی اشیاء کو تباہ کر رہی ہے، اور جب آپ کو اس کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے تو سب کچھ برباد ہو چکا ہوتا ہے۔ آپ کے ذہن میں کیا آئے گا؟ یقیناً، دیمک۔

یہ چھوٹے مگر خطرناک حشرات کبھی سوتے نہیں۔ ان کی کالونیاں لاکھوں پر مشتمل ہوتی ہیں، جہاں ہر دیمک کو کام تفویض کیا جاتا ہے۔ ان کے درمیان ایک ملکہ ہوتی ہے، جس کے حکم پر سب بے چون و چرا عمل کرتے ہیں۔ دیمک کی یہ سلطنت بظاہر نظر نہیں آتی، لیکن جب نقصان کا احساس ہوتا ہے، تب بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔

لیکن اگر میں کہوں کہ انسانوں کی زندگی میں بھی ایک ایسی ہی "دیمک" موجود ہے، تو کیا آپ یقین کریں گے؟ جی ہاں، وہ ہے مفروضے۔

مفروضوں کا خوفناک کھیل
ہمیں ہمارے ہی مفروضے ڈراتے ہیں۔ سوچیں، اگر آپ کسی گھنے جنگل میں تنہا سفر کر رہے ہوں اور ہر جھاڑی کے پیچھے کسی بلا کے چھپے ہونے کا خدشہ ہو۔ وہاں شاید کچھ بھی نہ ہو، لیکن آپ کا دماغ کہانیاں بناتا رہے گا۔ ہر سایہ، ہر ہلتی ہوئی جھاڑی، ہر سرسراہٹ آپ کے دل کی دھڑکن تیز کر دے گی، حالانکہ حقیقت میں وہاں کچھ بھی نہیں ہوگا۔

یہی مفروضے ہمیں یا تو احساسِ برتری دے کر مغرور کر دیتے ہیں یا احساسِ کمتری میں مبتلا کر کے ہماری خودی کو کچل دیتے ہیں۔

مفروضے اور حقیقت کا فرق
انسان نے صدیوں میں بے شمار علوم حاصل کیے، لیکن ریاضی (Maths) واحد علم ہے جو انہی مفروضوں کو قابو میں لا کر حقائق تک پہنچنے کا ذریعہ بنتا ہے۔ الجبرا میں بھی تو یہی ہوتا ہے، ہم فرض کرتے ہیں کہ 'الف' یہ ہوگا اور 'ب' وہ، اور پھر انہی مفروضات کے سہارے پیچیدہ مسائل کا حل نکال لیتے ہیں۔

ہمارا دماغ بھی مفروضے بنانے سے باز نہیں رہ سکتا۔ یہ اس کا بقا کا ایک طریقہ ہے۔ لیکن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب مفروضے حقیقت پر غالب آ جاتے ہیں اور ہماری زندگی میں دیمک کی طرح سرایت کر جاتے ہیں۔

مفروضے: رشتوں کے دشمن
جب مفروضے ہماری شخصیت کا حصہ بن جاتے ہیں، تب یہ سب سے خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔ یہ رشتوں میں دراڑیں ڈال دیتے ہیں، اعتماد کو شک میں بدل دیتے ہیں، اعتبار کو خوف بنا دیتے ہیں۔

ایک لمحے کے لیے سوچیں، کیا آپ کی زندگی میں ایسا نہیں ہوتا؟
کبھی کسی دوست کے دیر سے جواب دینے پر ہم فرض کر لیتے ہیں کہ وہ بدل گئے ہیں۔

کبھی کسی عزیز کے رویے کو غلط سمجھ کر اس سے دوری اختیار کر لیتے ہیں۔

کبھی اپنی صلاحیتوں کو کمتر سمجھ کر آگے بڑھنے کی ہمت نہیں کرتے۔
لیکن اگر ہم حقیقت کی روشنی میں دیکھیں، تو ان میں سے زیادہ تر مفروضے ہوتے ہیں، حقیقت نہیں۔

یاد رکھیں! ہر شخصیت کے اندر ایک کمزوری کا بادشاہ یا ملکہ ہوتی ہے، اور وہ ایک مفروضہ ہی ہوتا ہے۔ اگر ہم ان بے بنیاد خیالات کو قابو نہ کریں، تو یہ ہمیں اندر سے کھوکھلا کر دیں گے، بالکل دیمک کی طرح۔

تو کیوں نہ ہم اپنے دماغ کو تربیت دیں کہ صرف ان ہی مفروضوں کو قبول کرے جو حقیقت سے جُڑے ہوں؟ کیوں نہ شک کو اعتماد میں، اور خوف کو یقین میں بدل دیں؟


یہ بھی پڑھیں